کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 219
جناب بریلوی کے ایک پیروکار لکھتے ہیں : "دیوبندی، بدعتی، گمراہ اور شرار خلق اللہ ہیں "[1] ایک اور بریلوی مصنف لکھتے ہیں : "دیوبندیہ بحکم شریعت کفار و مرتدین لئیم ہیں۔ "[2] بریلوی اعلیٰ حضرت کے نزدیک دیوبندیوں کا کفر ہندوؤں، عیسائیوں اور مرزائیوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ فرماتے ہیں : "اگر ایک جلسہ میں آریہ و عیسائی اور دیوبندی، قادیانی وغیرہ جو کہ اسلام کا نام لیتے ہیں، وہ بھی ہوں تو وہاں بھی دیوبندیوں کا ردّ کرنا چاہئے، کیونکہ یہ لوگ اسلام سے نکل گئے مرتد ہو گئے اور مرتدین کی مدافعت بد تر ہے، کافر اصلی کی موافقت سے۔ "[3] اور : "دیوبندی عقیدہ والوں کی کتابیں ہندوؤں کی پوتھیوں سے بدتر ہیں۔ ان کتابوں کو دیکھنا حرام ہے۔ البتہ ان کتابوں کے ورقوں سے استنجاء نہ کیا جائے۔ حروف کی تعظیم کی وجہ سے، نہ کہ ان کتابوں کی۔ نیز اشرف علی کے عذاب اور کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ "[4] ایک اور بریلوی مصنف نے یوں گل فشانی کی ہے : "دیوبندیوں کی کتابیں اس قابل ہیں کہ ان پر پیشاب کیا جائے ان پر پیشاب کرنا پیشاب کو مزید ناپاک بناتا ہے۔ اے اللہ ہمیں دیوبندیوں یعنی شیطان کے بندوں سے پناہ میں رکھ! "[5] دیوبندی حضرات اور ان کے اکابرین کے متعلق بریلوی مکتب فکر کے کفریہ فتوے آپ نے ملاحظہ فرمائے، اب ندوۃ العلماء کے متعلق ان کے ارشادات سنئے۔ [1] تفسیر میزان الادیان از دیدار علی جلد 2 ص 270۔ [2] تجانب اہل السنہ ص 112۔ [3] ملفوظات احمد رضا ص 325،326۔ [4] فتاویٰ رضویہ جلد 2 ص 136۔ [5] حاشیہ سبحان السبوح ص 75۔