کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 211
میں جو ہے کہ "جس کا نام احمد یا محمد ہے اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل نہیں کرے گا" یہ حدیث صرف سنیوں (بریلوی) کے لیے، بد مذہب (یعنی وہابی) تو اگر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان مظلوم قتل کیا جائے اور اپنے اس مارے جانے پر صابر و طالب ثواب رہے، تب بھی اللہ عزوجل اس کی بات پر نظر نہ فرمائے اور اسے جہنم میں ڈالے۔ "[1] مزید ارشاد فرماتے ہیں : "مرتدوں میں سب سے خبیث تر وہابی ہیں۔ "[2] نیز: وہابیہ اخبث واضر اصلی یہودی، بت پرست وغیرہ سے بدتر ہیں۔ "[3] خان صاحب لکھتے ہیں : "وہابی فرقہ خبیثہ خوارج کی ایک شاخ ہے، جن کی نسبت حدیث میں آیا ہے کہ وہ قیامت تک منقطع نہ ہوں گے۔ جب ان کا ایک گروہ ہلاک ہو گا، دوسرا سر اٹھائے گا۔ یہاں تک کہ ان کا پچھلا طائفہ دجال لعین کے ساتھ نکلے گا۔ تیرہویں صدی کے شروع میں اس نے دیارِ نجد سے خروج کیا اور بنام نجدیہ مشہور ہوا۔ جن کا پیشوا شیخ نجدی تھا، اس کا مذہب میاں اسماعیل دہلوی نے قبول کیا۔ "[4] خان صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا فرقہ وہابیہ خلفائے راشدین کے زمانہ میں تھا؟ اس کے جواب میں لکھتے ہیں : "ہاں یہی وہ فرقہ ہے، جن کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ یہ ختم نہیں ہوئے۔ ان کا آخری گروہ دجال لعین کے ساتھ نکلے گا۔ یہی وہ فرقہ ہے کہ ہر زمانہ میں نئے رنگ نئے نام سے ظاہر رہا اور اب اخیر وقت میں وہابیہ کے نام سے پیدا ہوا۔ بظاہر وہ بات کہیں گے کہ سب باتوں سے اچھی معلوم ہو، اور حال یہ ہو گا کہ دین سے اس [1] احکام شریعت از احمد رضا جلد 1 ص 80۔ [2] ایضاً ص 123۔ [3] ایضاً ص 124۔ [4] الکوبتہ الشہابیۃ علی کفریات ابی الوہابیہ ص 58،59۔