کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 208
نیز: ان سے مصافحہ کرنا حرام قطعی و گناہ کبیرہ ہے، بلکہ اگر بلا قصد بھی ان کے بدن سے بدن چھو جائے تو وضو کا اعادہ مستحب ہے۔ "[1] یہ تو تھے جناب احمد رضا صاحب بریلوی کے اہل حدیث کے متعلق ارشادات و فرامین کہ وہابی ملعون،کفار اور مرتدین ہیں۔ نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز، نہ ان کی نماز جنازہ جائز،نہ ان سے نکاح کرنا جائز، نہ ان سے مصافحہ کرنا جائز۔ یہ سب شیاطین و ملاعین، ہندوؤں سے بدتر کافر اور جہنم کے کتے ہیں۔ جس نے کسی وہابی کی نماز جنازہ پڑھی، وہ توبہ کرے اور اپنا نکاح دوبارہ پڑھائے۔ اور جس کا ان سے بدن چھو جائے، وہ وضو کرے۔ اب جناب بریلوی کے پیروکاروں کے فتوے ملاحظہ ہوں۔ بریلوی مکتب فکر کے ایک مفتی ارشاد فرماتے ہیں : "اہل حدیث جو نذیر حسین دہلوی، امیر احمد سہسوانی،[2] امیر حسن سہسوانی،[3] بشیر حسن قنوجی[4] اور محمد بشیر قنوجی،[5] کے پیروکار ہیں، سب بحکم شریعت کافر اور مرتد ہیں۔ اور ابدی عذاب اور رب کی لعنت کے مستحق ہیں ! "[6] نیز: ثناء اللہ امرتسری کے پیروکار سب کے سب کافر اور مرتد ہیں، ازروئے حکم [1] فتاویٰ رضویہ جلد 1 ص 208۔ [2] بہت بڑے اہل حدیث عالم دین تھے۔ نزہۃ الخواطر جلد 8 ص 72 میں ان کے حالات زندگی موجود ہیں۔ [3] اپنے دور کے امام حدیث تھے۔ [4] یہ بھی سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلامذہ میں سے ہیں۔ [5] جید اہل حدیث عالم،سید صاحب کے شاگرد! حالات زندگی کے لیے ملاحظہ ہو نزہۃ الخواطر جلد 8 ص 415،416۔ [6] تجانب اہل السنت از محمد طیب قادری تصدیق شدہ حشمت علی قادری وغیرہ ص 219۔