کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 201
اس پر بھی مستزاد: "تقویۃ الایمان وغیرہ سب کفری قول، نجس بول و براز ہیں۔ جو ایسا نہ جانے، زندیق ہے۔ "[1] اس کتاب کا پڑھنا زنا اور شراب نوشی سے بھی بدتر ہے۔ "[2] ظاہر ہے یہ سارا غیظ و غضب اس لیے کہ تقویۃ الایمان کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی اور وہ شرک و قبر پرستی کی لعنت سے تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوئے۔ جناب بریلوی بخوبی واقف تھے کہ اس کتاب کو پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، چنانچہ انہوں نے اس کے پڑھنے کو حرام قرار دے دیا۔ تقویۃ الایمان قرآنی آیات اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بھری ہوئی ہے۔ اور پڑھنے والا جب ایک ہی موضوع پر اس قدر آیات کو ملاحظہ کرتا ہے تو وہ حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ تمام آیات بریلوی عقائد و افکار سے متصادم ہیں اور ان کے مفہوم کا بریلوی مذہب کے بنیادی نظریات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کتاب کا قاری تردد کا شکار ہو کر بالآخر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ وہ جن عقائد کا حامل ہے ان کا شریعت اسلامیہ سے کوئی واسطہ نہیں۔ اور وہ اپنے شرکیہ عقائد کو چھوڑ کر توحید و سنت پر عمل پیرا ہو جاتا ہے۔ جناب بریلوی کو اس بات کا بہت دکھ تھا۔ چنانچہ خود بدلنے کی بجائے تقویۃ الایمان کو اپنے بغض و حسد کا نشانہ بناتے رہے۔ قرآن کریم میں ہے : ﴿وَاِذَ ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَت قُلُوبُھُم وَاِذَا تُلِیَت عَلَیھِم ایٰٰاتُہُ زَادَتھُم اِیمَانًا﴾[3] "مومنوں کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے، ان کے دلوں میں اللہ کا [1] دامان باغ سبحان السبوح ص 134۔ [2] العطایہ النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ مجموعتہ فتاویٰ البریلوی ج6ص 183۔ [3] سورۃ الانفال آیت 2