کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 197
عرس و میلاد، تیجے و چالیسویں، قوالی اور گانے بجانے، رقص و سرور کی محفلیں اور شکم پروری و خواہشات نفسانی کی تکمیل کے لیے ایجاد کی جانے والی دوسری بدعات خطرے میں پڑ جاتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے علمائے اہل حدیث کو اپنا بدترین دشمن سمجھا اور ان کے خلاف تکفیر بازی کی مہم شروع کر دی۔ اس سلسلے میں انہوں سب سے پہلے وہابی تحریک کے سرخیل شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کو نشانہ بنایا، کیونکہ شرک و بدعت کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ کرنے والے وہ سب سے پہلے شخص تھے۔ وہ توحید و سنت کا پرچم لے کر نکلے اور کفر و بدعت کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کرتے چلے گئے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ہندوؤانہ عقائد اسلامی تہذیب کا حصہ بن رہے ہیں، حدود اللہ معطل ہو چکی ہیں، اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور جاہل صوفیاء غلط نظریات کا پرچار کر رہے ہیں، وہ کتاب و سنت کی روشنی میں صحیح اسلامی دعوت کا جھنڈا لے کر اٹھے اور انگریزوں کے خلاف عملی جہاد کے ساتھ ساتھ شرک و بدعت کے طوفان کا بھی مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں اتر آئے۔ انہوں نے جب اپنی کتاب تقویۃ الایمان [1]میں لوگوں کو توحید کے عقیدے کی طرف دعوت دی، غیر اللہ سے فریاد رسی جیسے عقائد کو باطل ثابت کیا اور تقلید و جمود اور مذہبی تعصب کی بھی بیخ کنی کی۔ شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ انگریزوں اور سکھوں کے خلاف جہاد میں مشغول رہے اور درس و تدریس اور وعظ و تبلیغ کے ذریعے بھی مسلمانوں کو توحید کا سبق دیتے رہے۔ دن کا جہاد کرتے، راتوں کو قیام کرتے۔ یوں مسلسل محنت اور جدوجہد سے شرک و بدعت کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ راہِ حق میں شہادت پا گئے۔ وہ اس آیت کا مصداق تھے : [1] امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کتاب التوحید اور تقویۃ الایمان ایک دوسرے سے بہت حد تک مشابہ ہیں اور دونوں ایک طرز پر لکھی گئی ہیں۔