کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 187
کہتے ہیں اپنے عزیزوں کو بخشوانے کے لیے اتنی دولت شاید ہی کوئی خرچ کرے۔ پھر اس میں تخفیف کے لیے دوسرے کئی حیلے بیان کرتے ہیں تاکہ اسے استطاعت سے باہر سمجھ کر بالکل ہی ترک نہ کر دیا جائے۔ جو لوگ ان حیلوں کے قائل نہیں، ان کے متعلق ان کا ارشاد ہے کہ: "وہابی وغیرہ کو دنیا سے رخصت ہونے والوں کے ساتھ نہ کوئی خیرخواہی ہے اور نہ فقراء و غرباء(بریلوی ملّاؤں ) کے لیے جذبہ ہمدردی۔ اگر کوئی شخص حساب کے مطابق فدیہ ادا کرے، تو کیا اچھا ہے۔ "[1] اگر ہر محلے کے لوگ اپنے اعزا کو بخشوانے کے لیے ان حیلوں پر عمل شروع کر دیں تو ان ملّاؤں کی تو پانچوں گھی میں ہو جائیں۔ ان حیلوں سے بے نمازوں اور روزہ خوروں کی تعداد میں اضافہ تو ہو سکتا ہے، بریلوی اکابرین کی تجوریاں تو بھر سکتی ہیں، مگر عذاب کے مستحق مردوں کو بخشوایا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ ان حیلوں کا نہ قرآن میں ذکر نہ حدیث میں۔ جس نے دنیا میں جو کمایا، آخرت میں اس کا پھل پائے گا۔ اگر نیک ہے تو اسے حیلوں کی ضرورت نہیں، اور اگر بد ہے تو اسے ان کو کوئی فائدہ نہیں ! انگوٹھے چومنا بھی ایک بدعت ہے، جس کا حدیث سے کوئی ثبوت نہیں۔ بریلوی حضرات اس بدعت کو ثابت کرنے کے لیے من گھڑت اور موضوع روایات ذکر کرتے ہیں۔ جناب بریلوی لکھتے ہیں "حضرت خضر علیہ السلام سے مروی ہے کہ جو شخص ﴿ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ ﴾ سن کر اپنے انگوٹھے چومے گا اور پھر اپنی آنکھوں پر لگائے گا، اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی۔ "[2] جناب احمد رضا نے اس روایت کو امام سخاوی سے نقل کیا ہے۔ جب کہ امام [1] حیلۃ الاسقاط ص 35۔ [2] منیز العین فی حکم تقبل الابہامین مندرج در فتاویٰ رضویہ ص 383۔