کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 183
نیز: "علمائے دین ان تصویروں سے دفع امراض و حصول اغراض کے لیے توسل فرماتے تھے۔ "[1] بریلوی اعلیٰ حضرت حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے نعل مبارک کی خیالی تصویر کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : جس کے پا س نقشہ متبرکہ ہو، ظالموں اور حاسدوں سے محفوظ رہے۔ عورت درد زہ کے وقت اپنے داہنے ہاتھ میں رکھے، آسانی ہو۔ جو ہمیشہ پاس رکھے گا معزز اور اسے زیارت روضہ رسول نصیب ہو۔ جس لشکر میں ہو نہ بھاگے، جس قافلے میں ہو نہ لٹے، جس کشتی میں ہو نہ ڈوبے، جس مال میں ہو نہ چرایا جائے، جس حاجت میں اس سے توسل کیا جائے پوری ہو، جس مراد کی نیت اپنے پاس رکھیں حاصل ہو۔ "[2] ان خرافات اور دور جاہلیت کی خرافات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے ان خرافات کو ختم کیا تھا، یہ لوگ دوبارہ اسے زندہ کر رہے ہیں۔ خاں صاحب نقل کرتے ہیں : "اگر ہو سکے تو اس خاک کو بوسہ دے جسے نعل مبارک کے اثر سے نم حاصل ہوئی ورنہ اس کے نقشہ ہی کو بوسہ دے۔ "[3] مزید: اس نقشے کے لکھنے میں ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ عالیہ کی زیارت نہ ملی، وہ اس کی زیارت کر لے۔ اور شوق سے اسے بوسہ دے کہ یہ مثال اس اصل کے قائم مقام ہے۔ "[4] [1] بدرالانوار فی آداب الاٰثار ص 39۔ [2] ایضاً ص 40۔ [3] ابرالمقال فی قبلۃ الاجلال از بریلوی ص 143۔ [4] ایضاً ص 148۔