کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 180
کیسے پہنچے گا؟"[1] امام عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "اس طرح قرآن مجید ختم کر کے اجرت لینے والا اور دینے والا دونوں گناہ گار ہیں۔ اس طرح کرنا جائز نہیں۔ "[2] ابن عابدین رحمہ اللہ لکھتے ہیں : "ایسا کرنا کسی مذہب میں جائز نہیں، اس کا کوئی ثواب نہیں ملتا! "[3] امام شامی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں : "قرآن مجید اجرت پر پڑھنا اور پھر اس کا ثواب میت کو ہبہ کرنا کسی سے ثابت نہیں ہے۔ جب کوئی شخص اجرت لے کر پڑھتا ہے تو اسے پڑھنے کا ثواب نہیں ملتا، پھر وہ میت کو کیا ہبہ کر سکتا ہے۔ "[4] رب تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَا تَشْتَرُوْا بِایٰاتِی ثَمَنًا قَلِیْلاً ﴾ [5] "میری آیات کے بدلے مال کا کچھ حصہ نہ خریدو۔ " مفسرین کہتے ہیں : "یعنی اس پر اجرت نہ لو۔ [6]" شرح عقیدہ طحاویہ میں ہے : "کچھ لوگوں کا اجرت دے کر قرآن مجید ختم کروانا اور پھر اس کا ثواب میت کو ہبہ کرنا، یہ سلف صالحین میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں۔ اور نہ اس طرح ثواب میت [1] شرح الدرایہ از محمود بن احمد حنفی۔ [2] البنایہ شرح الہدایہ جلد 3 ص 655۔ [3] مجموعہ رسائل از ابن عابدین ص 173،174۔ [4] ایضاً ص 175۔ [5] سورۃ البقرہ آیت 41 [6] تفسیر طبری،ابن کثیر اور قرطبی وغیرہ۔