کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 161
ایک اور جگہ لکھتے ہیں : "نبی صلی اللہ علیہ و سلم حاضر و ناظر ہیں اور دنیا میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہر جگہ حاضر ہیں اور ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں۔ "[1] صرف انبیاء علیہم السلام ہی نہیں، بلکہ امام بریلویت جناب احمد رضا بریلوی بھی اس صفت الٰہیہ میں ان کے شریک ہیں۔ چنانچہ ان کے ایک پیروکار ارشاد کرتے ہیں : "احمد رضا آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ وہ ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ "[2] یہ ہیں بریلوی عقائد و افکار جن کا دین و دانش سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ دین الٰہی تو عقل و فطرت کے عین مطابق ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿ قُلْ ہٰذِہ سَبِیْلِی اَدْعُوْآ اِلَی اللّٰهِ عَلیٰ بَصِیْرَۃ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ ط وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ﴾ [3] "آپ کہہ دیجئے کہ میرا طریق کار یہی ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ دلیل پر قائم ہوں، میں بھی اور میرے پیرو بھی! اور پاک ہے اللہ اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ " ﴿ وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ﴾ [4] "اور یہ بھی کہہ دیجئے کہ یہی میری سیدھی شاہراہ ہے۔ سو اسی پر چلو اور دوسری پگڈنڈیوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو راہ سے جدا کر دیں گی۔ اس (سب) کا (اللہ) نے حکم دیا ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ " ﴿ اَفَلا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا ﴾ [5] [1] ایضاً ص 46۔ [2] انوار رضا ص 246۔ [3] سورۃیوسف آیت 108 [4] سورۃ الانعام : 153 [5] سورۃ محمد : 24