کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 160
رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا مسجد میں انتظار فرمایا کرتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم حاضر و ناظر تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا مسجد میں انتظار کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ اسی طرح جب آپ مدینہ میں تھے تو حنین میں آپ کا وجود نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تبوک میں تھے تو مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم موجود نہ تھے۔ اور جب عرفات میں تھے تو نہ مکہ مکرمہ میں آپ کا وجود تھا نہ مدینہ منورہ میں ! مگر بریلوی حضرات ان تمام آیات کریمہ اور شواہد و حقائق سے پہلو تہی کرتے ہوئے عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر آن ہر مقام پر حاضر و ناظر ہیں۔ [1] مزید کہتے ہیں : "حضور صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کو بھی جانتے ہیں اور تمام موجودات و مخلوقات ان کے جمیع احوال کو بتمام کمال جانتے ہیں۔ ماضی حال مستقبل میں کوئی شئے کسی حال میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے مخفی نہیں۔ "[2] ایک اور جگہ لکھتے ہیں : "نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تمام دنیا کو اپنی نظر مبارک سے دیکھ رہے ہیں۔ "[3] جناب بریلوی لکھتے ہیں : "نبی علیہ السلام نہ کسی سے دور ہیں اور نہ کسی سے بے خبر! "[4] مزید رقم طراز ہیں : "حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں، نیتوں، ارادوں اور دل کے خطروں کو پہچانتے ہیں۔ اور یہ سب حضور پر روشن ہے جس میں اصلاً پوشیدگی نہیں۔ "[5] [1] تسکین الخواطر مسئلہ الحاضر والناظر، احمد سعید کاظمی ص5۔ [2] ایضاً ص 68۔ [3] ایضاً ص 90۔ [4] خالص الاعتقاد ص 39۔ [5] ایضاً ص 46۔