کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 154
"اگر وہ چاہیں تو ایک وقت میں دس ہزار شہروں میں دس ہزار جگہ کی دعوت قبول کر سکتے ہیں۔ "[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق نقل کرتے ہیں : "نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی روح کریم تمام جہاں میں ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔ "[2] جناب احمد رضا کے ایک پیروکار لکھتے ہیں : "حضور علیہ السلام کی نگاہ پاک ہر وقت عالم کے ذرہ ذرہ پر ہے اور نماز، تلاوت قرآن، محفل میلاد شریف اور نعت خوانی کی مجالس میں، اسی طرح صالحین کی نماز جنازہ میں خاص طور پر اپنے جسم پاک سے تشریف فرما ہوتے ہیں۔ "[3] نامعلوم یہ تعلیمات و ہدایات بریلوی حضرات نے کہاں سے اخذ کی ہیں؟ کتاب و سنت سے تو ان کا کوئی رشتہ اور ربط و ضبط نہیں ! بریلویت کے یہ پیروکار آگے چل کر لکھتے ہیں : "حضور علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کا پیدا ہونا، ان کی تعظیم ہونا اور خطا پر جنت سے علیحدہ ہونا اور پھر توبہ قبول ہونا آخر تک ان کے سارے معاملات جو ان پر گزرے، سب کو دیکھا ہے۔ اور ابلیس کی پیدائش اور جو کچھ اس پر گزرا، اس کو بھی دیکھا۔ اور جس وقت روح محمدی کی توجہ دائمی حضرت آدم سے ہٹ گئی، تب ان سے نسیان اور اس کے نتائج ہوئے۔ "[4] یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم دنیا میں جلوہ گر ہونے سے قبل بھی حاضر و ناظر تھے ! اور سنئے : "اہل اللہ اکثر و بیشتر بحالت بیداری اپنی جسمانی آنکھوں سے حضور کے جمال [1] ملفوظات ص 113۔ [2] خالص الاعتقاد ص 40۔ [3] جاء الحق 155۔ [4] جاء الحق ص 156۔