کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 151
’’وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا مدینہ میں مصطفےٰ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشری صفات سےمتصف ہونے کے باوجودنور ہونا کسی بھی شخص کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ چنانچہ اس نظریے کے ناقابل ہونے کا اعتراف کرنے ہوئے بریلوی کے پیروکارلکھتےہیں : ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےنور ہونے کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائی اور نہ ہی ہم سمجھ سکتے ہیں۔ بس بغیر سوچے سمجھے اسی پر ایمان لانا فرض ہے۔ ‘‘[1] یعنی عقل و فکر اور فہم و تدبر سے کام لینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ غور وفکر کرنے سے بریلویت کی ساری عمارت منہدم ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسے قائم رکھنے کے لیے سوچ و بچار پر پابندی ضروریات بریلویت میں سے ہے۔ قرآن کی صریح آیات کی تاویل کرتے ہوئے بریلوی حضرات کہتےہیں : ’’قل کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ﴿بَشَرٌ مِثْلُكُمْ﴾کہنے کی حضور ہی کو اجازت ہے۔ ‘‘[2] اب کون ان سے پوچھے کہ ’’قل‘‘ کا لفظ آیت کریمہ ’’قُلْ اِنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ‘‘میں بھی ہے۔ تو ’’کیا اللہ ایک ہے ‘‘ کہنے کی اجازت بھی حضور کے سوا کسی کو نہیں ؟ کہتے ہیں : ’’بشر کہنا کفار کا مقولہ ہے۔ ‘‘[3] اگر یہی بات ہے تو معاذ اللہ بخاری شریف کی اس حدیث کا کیا مفہوم ہو گا جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے ؟ (حدیث گزر چکی ہے !) [1] من هو احمد رضا بریلوی الہند، شجاعت بریلوی ص39 [2] مواعظ نعیمیہ احمد یار گجراتی ص 115 [3] فتاویٰ رضویہ،بریلوی ج6 ص143، مواعظ نعیمیہ 115