کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 141
لہٰذا قرآنی آیات میں اس بات کی واضح تصریح موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے۔ اور اسی طرح قرآن ہمیں یہ بھی بتلاتا ہے کہ کفار سابقہ انبیاء ور سل کی رسالت پر جواعتراضات کرتے تھے، ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ وہ کہتے تھے : یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر کواپنی ترجمانی کےلیے منتخب فرما لیا ہو اور اس کے سر پر تاج نبوت رکھ دیا ہو؟ اس کام کے لیے ضروری تھا کہ اللہ نور مخلوق میں سے کسی فرشتے کومنتخب فرماتا۔ توگویا انبیاء و رسل کی بشریت کواللہ تعالیٰ نےکفار کی ہدایت میں مانع قرار دیا ہے۔ ثابت ہوا کہ یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی بشر رسول نہیں ہو سکتا، عقیدہ کفار تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کفار کہتے تھے، بشریت رسالت کےمنافی ہے۔ اور بریلویت کے پیروکار یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسالت بشریت کے منافی ہے۔بہر حال اس حد تک دونوں شریک ہیں کہ بشریت و رسالت کا اجتماع ناممکن ہے۔ اب اس سلسلے میں قرآن کی آیات ملاحظہ فرمائیے : ﴿ وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى إِلَّا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَسُولًا ﴾[1] ’’ اور نہیں منع کیا لوگوں کو یہ کہ ایمان لائیں جس وقت آئی ان کے پاس ہدایت، مگر یہ کہ انہوں نے کہا بھیجا اللہ نے بشر کو پیغام پہنچانے والا۔ ‘‘ اللہ نے اس نظریے کی تردید کرتےہوئے فرمایا: ﴿ قُلْ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولًا ﴾ (الاسراء : 95) ’’اگر ہوتے بیچ زمین کے فرشتے، چلا کرتے آرام سے، البتہ اتارتے ہم اوپر ان کے آسمان سے فرشتے کو پیغام پہنچانےوالا۔ ‘‘ ﴿ قَالُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴾(ابراہیم : 10) [1] سورۃ اسراء آیت 94