کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 135
میں قرار پکڑنے تک کے حالات جانے۔"[1] جناب احمد رضا بریلوی کا فرمان سنئے : کامل کا دل تمام عالم علوی و سفلی کا بروجہ تفصیل آئینہ ہے۔ "[2] یعنی مرد کامل دنیا و آخرت کے تمام واقعات و شواہد کی تفصیل سے واقف ہوتا ہے۔ زمین و آسمان میں رونما ہونے والا کوئی واقعہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو، اسے ہر ظاہر و خفی کا علم ہوتا ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اس قسم کی خرافات و ترہات کی نشر و اشاعت کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے والے اپنے آپ پر اسلام کا لیبل چسپاں کرنے میں ذرا سی بھی خفت محسوس نہیں کرتے۔ مزید ارشاد ہوتا ہے ؛ مردہ وہ ہوتا ہے جسے عرش اور جو کچھ اس کے احاطہ میں ہے آسمان و جنت و نار یہ چیزیں محدود مقید کر لیں۔ مرد وہ ہے جس کی نگاہ تمام عالم کے پار گزر جائے یعنی مکمل علم غیب کے حصول کے بغیر کوئی شخص ولی اللہ نہیں ہو سکتا۔ "[3] اور سنئے : ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں مومن کامل کی وسعت نگاہ میں ایسے ہیں، جیسے ایک لق و دق میدان میں ایک چھلا پڑا ہو۔ "[4] ایک اور بریلوی یوں سخن طراز ہیں : "کامل بندہ چیزوں کی حقیقتوں پر مطلع ہو جاتا ہے اور اس پر غیب اور غیب الغیب کھل جاتے ہیں۔ "[5] [1] الکلمۃ العلیا مراد آبادی ص 49، تسکین الخواطر کاظمی ص 146، جاء الحق ص 87۔ [2] خالص الاعتقاد ص 51۔ [3] ایضاً۔ [4] خالص الاعتقاد ص 57۔ [5] جاء الحق ص 85۔