کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 125
"حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے علم و انواع میں کلیات، جزئیات، حقائق و دقائق، عوارف اور معارف کہ ذات و صفات الٰہی کے متعلق ہیں اور لوح و قلم کا علم تو حضور کے مکتوب علم سے ایک سطر اور اس کے سمندروں سے ایک نہر ہے، پھر بایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت سے تو ہے۔ حضور کا علم و حلم تمام جہاں کو محیط ہے "[1] "نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ذات الٰہی کے شانوں اور صفات حق کے احکام اور افعال اور آثار غرض جمیع اشیا کا علم اور حضور نے جمیع علوم اول و آخر ظاہر و باطن کا احاطہ فرمایا۔ "[2] جناب بریلوی کے ایک معتقد ارشاد فرماتے ہیں : "نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم سے عالم کی کوئی شئے پردہ میں نہیں ہے۔ یہ روح پاک عرش اور اس کی بلندی و پستی، دنیا و آخرت، جنت و دوزخ سب پر مطلع ہے۔ کیونکہ یہ سب اسی ذات جامع کمالات کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ "[3] مزید لکھتے ہیں : "جناب رسالت ماّب صلی اللہ علیہ و سلم کا علم تمام معلومات غیبیہ و لدنیہ پر محیط ہے۔ "[4] ایک اور بریلوی ارشاد کرتے ہیں : "حضور صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کو بھی جانتے ہیں اور تمام موجودات، مخلوقات، ان کے جمیع احوال کو بتمام و کمال جانتے ہیں۔ ماضی، حال، مستقبل میں کوئی شئے کسی حال میں ہو، حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے مخفی نہیں۔ "[5] ایک اور بریلوی مفکر اس پر بھی سبقت لے جاتے ہوئے یوں گویا ہے : " حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے ایسا علم غیب بخشا کہ آپ پتھر کے دل کا حال بھی [1] ایضاً ص 38۔ [2] الدولتہ المکیۃ ص 210۔ [3] الکلمۃ العلیاء لاعلاء علم المصطفیٰ نعیم مراد آبادی ص14۔ [4] ایضا56۔ [5] تسکین الخواطر فی مسئلہ الحاظر والناظر، احمد سعید کاظمی ص 45۔