کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 114
آپ نے دعا کر کے ان پر سے عذاب اٹھوا دیا۔ ایک قبر میں سے آواز آئی، حضرت! مجھ سے عذاب نہیں اٹھا۔ آپ نے دعا فرمائی اس سے بھی عذاب اٹھا لیا گیا(ملحضاً)۔ [1] بریلوی فرقے کے ایک اور امام کا غیر اسلامی فلسفہ سماعت فرمائیے۔ ارشاد ہوتا ہے : "یا علی یا غوث کہنا جائز ہے، کیونکہ اللہ کے پیارے بندے برزخ میں سن لیتے ہیں۔"[2] جناب احمد رضا بریلوی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انبیاء و اولیاء پر موت طاری نہیں ہوتی، بلکہ انہیں زندہ ہی دفنا دیا جاتا ہے۔ اور ان کی قبر کی زندگی دنیا کی زندگی سے زیادہ قوی اور افضل ہوتی ہے۔ جناب بریلوی انبیائے کرام علیہم السلام کے متعلق فرماتے ہیں : "انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی حیات حقیقی حسی و دنیاوی ہوتی ہے۔ ان کی تصدیق وعدہ الٰہیہ کے لیے مخصوص ایک آن کی آن موت طاری ہوتی ہے، پھر فوراً ان کو ویسے ہی حیات عطا فرما دی جاتی ہے۔ اس حیات پر وہی احکام دنیویہ ہیں۔ ان کا ترکہ بانٹا نہ جائے گا، ان کی ازواج کا نکاح حرام، نیز ازواج مطہرات پر عدت نہیں۔ وہ اپنی قبور میں کھاتے پیتے نماز پڑھتے ہیں۔ "[3] ایک اور صاحب ارشاد فرماتے ہیں : انبیائے کرام چالیس دن قبر میں رہنے کے بعد نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ "[4] مزید سنئے : "انبیائے کرام اپنی قبر میں زندہ ہیں۔ وہ چلتے پھرتے ہیں۔ نماز پڑھتے اور کلام کرتے ہیں اور مخلوق کے معاملات میں تصرف فرماتے ہیں۔ "[5] [1] حکایات رضویہ 57۔ [2] فتاویٰ نوریہ نور اللہ قادری ص 527۔ [3] ملفوظات للبریلوی جز3 ص 276۔ [4] رسول الکلام دیدار علی ص1۔ [5] حیات النبی صلی اللہ علیہ و سلم کاظمی ص 3 ط ملتان۔