کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 107
یہی مفتی صاحب رقم طراز ہیں : "اولیاء کو قبر کی مکھی تو کیا، عالم پلٹ دینے کی طاقت ہے۔۔۔۔ مگر توجہ نہیں دیتے "[1] بریلویت کے ایک اور راہنما لکھتے ہیں : ظاہر قضائے معلق تک اکثر اولیاء کی رسائی ہوتی ہے۔ "[2] ایک دوسرے بریلوی صاحب ارشاد فرماتے ہیں : "اولیاء کا تصرف و اختیار مرنے کے بعد اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ "[3] یہ ہیں غیر اللہ کے بارے میں ان کے عقائد۔ انہوں نے اپنی دعاؤں اور طلب گاریوں میں دوسری ہستیوں کو بھی شریک کر لیا اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے اختیارات و تصرفات اس کی مخلوق میں تقسیم کر دیئے ہیں، حالانکہ شریعت اسلامیہ میں کارسازیوں اور بے نیازیوں کا تصور صرف اللہ تعالیٰ تک ہی محدود ہے۔ بریلوی حضرات نے اپنے اولیاء کو وہ تمام اختیارات تفویض کر دیے، جو عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام، یہودی حضرت عزیر علیہ السلام اور مشرکین مکہ لات، ہبل، عزی اور منات وغیرہ میں سمجھتے تھے۔ ﴿ اُفِّ لَّکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ﴾ یہ مت سمجھئے کے بریلویت کے امام جناب احمد رضا خان صاحب کا ان خدائی اختیارات میں کوئی حصہ نہ تھا۔ وہ بھی دوسرے اولیاء کی طرح رزاق، داتا، شافی، غوث، مختار، قادر مطلق، حاجت روا اور مشکل کشا تھے۔ ان کی صفات ملاحظہ کیجئے۔ بریلویت کے ایک پیروکار اپنے ہادی و مرشد کی شان بالا صفات میں اپنی کتاب مدائح اعلیٰ حضرت میں نغمہ سرا ہیں۔ [1] رسول الکلام از دیدار علی للبریلوی ص 125 ط لاہور۔ [2] (بہار شریعت)جز اول ص 6۔ [3] (فتاویٰ نعیمیہ)ص 249۔