کتاب: بریلویت تاریخ و عقائد - صفحہ 103
آگے چل کر فرماتے ہیں ؎ "اے ظل اللہ شیخ عبدالقادر اے بندہ پناہ شیخ عبدالقادر محتاج و گدائم تو ذوالتّاج و کریم شیئا للہ شیخ عبدالقادر[1] ایک اور جگہ یوں گویا ہوتے ہیں : "اے عبدالقادر، اے فضل کرنے والے، بغیر مانگے سخاوت کرنے والے، اے انعام و اکرام کے مالک، تو بلند و عظیم ہے۔ ہم پر احسان فرما اور سائل کی پکار کو سن لے۔ اے عبدالقادر ہماری آرزوؤں کو پورا کر۔ "[2] احمد رضا دوسری جگہ گل فشانی فرماتے ہیں : "عبدالقادر نے اپنا بستر عرش پر بچھا رکھا ہے اور عرش کو فرش پر لے آتے ہیں۔ "[3] ایک اور جگہ لکھتے ہیں : "اہل دین را مغیث عبدالقادر! "[4] مزید سنئے "احد سے احمد سے تجھ کو، کن اور سب کن فیکون حاصل ہے یا غوث[5] بریلوی حضرات اپنے مشرکانہ عقائد ثابت کرنے کے لیے شیخ جیلانی رحمہ اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے ! "اللہ نے مجھے تمام قطبوں کا سردار بنایا ہے۔ مرا حکم ہر حال میں جاری و ساری [1] ایضاً ص 182۔ [2] حدائق بخشش للبریلوی ص 179۔ [3] ایضاً ص 184۔ [4] ایضاً ص 179۔ [5] ایضاً ص 179۔