کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 61
’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جو بیعت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد کی گئی ؛ یہ بیعت مؤکدہ تھی۔یہ اس بیعت کے بعد دوسری تھی جس کا ذکر ہم بیعت سقیفہ کے پہلے دن کر چکے ہیں ۔‘‘ جیسا کہ ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے اور مسلم بن حجاج نے اسے صحیح کہا ہے۔یہ چھ ماہ کا عرصہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے انحراف اور رو گردانی کرنے والے ہر گزنہ تھے۔ بلکہ آپ کے پیچھے نمازیں پڑھتے‘اور آپ کے ہاں مشورہ کے لیے حاضر ہوتے۔ اور آپ کے ساتھ ذی قصہ بھی تشریف لے گئے تھے۔‘‘[1] [1] البدایۃ والنہایۃ ۸/۱۸۸-۱۸۹۔