کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 6
کے بعد فی الفور ایسا اجتماع یا کانفرنس نہیں کرپاتے۔ بلکہ ایسے انقلابات کے متعلق یہ باتیں مشہور ہیں کہ وہ اپنے ہی لوگوں کو کچے کھا جاتے ہیں ۔ لیکن یہاں پر ہمارا مقصد اسلام اور دوسرے مذاہب کے مابین تقابل کرنا نہیں ۔ اس اجتماع پر مؤرخین اور مستشرقین اور ان شاگردوں نے کافی کچھ کلام کیا ہے۔ اور اس اجتماع میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر ہے اور کبھی کبھار آپ ان لوگوں کی ایسی کوششوں پر تعجب کریں گے جن میں یہ نصوص کو توڑ موڑ کر ایسے پیش کرتے ہیں کہ اس چیز کا احتمال تک بھی ان نصوص میں نہیں ہوتا جسے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اپنی مکارانہ اوردھوکہ دہی پر مبنی تمام تر سازشوں کا نزلہ اس پاکیزہ امت کے صدر اول کے لوگوں پر گراتے ہیں۔حالانکہ اہل علم مؤرخین جانتے ہیں کہ کسی بھی خاص دور کی تاریخ لکھتے ہوئے اس دور کی طبیعت اور روحانی صلاحیت و اہلیت کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ مستشرقین اہل مغرب میں سے یہود و نصاری کی وہ اولاد ہیں جنہوں نے شرقی علوم کا مطالعہ کیاہے۔ ان میں سے اکثر کا مقصد اہل مشرق پر اپنی برتری ثابت کرنا ‘ ان پر غلبہ پانا اور ایک لمبی مدت تک انہیں فکری و سیاسی اور اقتصادی طور پر اپنے غلام بنائے رکھنا ہے۔[1] [1] ادوارد سعید کہتا ہے: استشراق سیاسی اور تہذیبی غلبہ کے لیے ایک رمز ہے۔ (ساجدۃ فوزی؛ مقالہ: حول طبیعۃ الاستشراق ص ۳۵۹۔