کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 58
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق مستشرقین کا یہ کہنا کہ : آپ خلافت کی طمع رکھتے تھے؛ یہ ایسے جاہل کا کلام ہے جو آپ کے احوال سے لاعلم ہے۔ آپ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے وقت یہ فرماتے ہیں : ’’ہمیں صرف اس وجہ سے غصہ آیا کہ ہمیں مشورہ کرنے سے دور رکھا گیا۔اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کے سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔ آپ غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ ہی ثانی اثنین ہیں ۔ ہم آپ کے شرف و منزلت اور خیر بھلائی سے آگاہ اور اس کے معترف ہیں ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہی آپ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔[1] بیہقی کی ایک روایت میں درجہ کی سند کیساتھ مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ’’ اے لوگو! آگاہ ہوجاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں امارت کا کوئی منصب تفویض نہیں کیا تھا[یعنی اس کا عہد نہیں لیا تھا۔‘‘[2] [1] الحاکم في المستدرک۳/۶۶‘ وصححہ و وافقہ الذہبي؛ وفي سنن الکبری للبیہقي۸/۱۵۲۔ وذکرہ ابن کثیر في البدایۃ والنہایۃ ۸/۹۳۔ [2] دلائل النبوۃ ۷/۲۲۳۔ البدایۃ والنہایۃ ۸/۹۵۔