کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 55
اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم ! ہم نہیں اس چیز سے آپ کو معاف رکھیں گے اور نہ ہی آپ سے کوئی ایسی معذرت چاہیں ۔ ہم اس معاملہ سے آپ کو کیسے پیچھے کر سکتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو آگے بڑھایا ہو۔‘‘[1] نیز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا: ’’ اللہ کی قسم ! کسی بھی دن یا کسی بھی رات میں میرے دل میں امارت کی خواہش پیدا نہیں ہوئی۔اور نہ ہی میں اس میں کوئی رغبت رکھتا تھا۔اور نہ ہی کبھی میں نے اعلانیہ یا چپکے سے اللہ تعالیٰ سے اس کے بارے میں کوئی سوال کیا ۔ لیکن میں فتنہ کے پھیل جانے سے ڈرتا تھا ۔‘‘[2] نیز آپ نے یہ بھی فرمایا تھا : ’’ مجھے دنیا میں کسی چیز پر کوئی افسوس نہیں ہے سوائے تین چیزوں کے ‘جو کہ میں نے کی ہیں ۔میری خواہش تھی کہ اگر میں ان کو چھوڑ دیتا۔ ان میں سے ایک سقیفہ بنو ساعدہ والے دن کا ذکر کرکے فرمایا: ’’ میں چاہتا تھا کہ اپنا ہاتھ ان دوآدمیوں حضرت عمر بن خطاب یا حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں ڈال دیتا ۔ ان میں سے کوئی ایک امیر ہوتا اور میں ان کا وزیر ہوتا ۔‘‘[3] [1] الخلال ‘ السنۃ ۲/۳۰۴-۳۰۵۔ باسناد ضعیف۔البلاذري أنساب الأشراف ۲/۷۷۲۔ [2] ابن کثیر ‘ البدایۃ والنہایۃ ۹/۴۱۷۔البلاذري أنساب الأشراف ۲/۷۷۶۔ [3] مختصر تاریخ دمشق ۱۳/۱۲۲۔