کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 48
تعریف کیا کرتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے : میں نے کبھی بھی کسی کو دعوت نہیں دی مگر اس کے کچھ اعتراضات ہوا کرتے تھے۔ سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے۔ اس نے کوئی حیل و حجت نہیں کی۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ بیعت سقیفہ بہت جلد پیش آگئی۔اس میں کسی غور فکر یا روایت کی تلاش کی ضرورت نہیں پڑی۔اس لیے کہ باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت تمام صحابہ پر واضح تھی[اور تمام مسلمانوں نے یہ جانتے ہوئے آپ کی بیعت کر لی تھی کہ آپ افضل الصحابہ ہیں ]۔ اس لیے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تحریر لکھوانے کاارادہ کیاتھاتو آپ نے واضح الفاظ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا کہہ کر تحریر لکھوانے کا ارادہ تر ک کردیا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’اﷲ تعالیٰ اور مومن ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کی خلافت و امارت کو پسند نہیں کر سکتے۔‘‘[1] [1] صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ (ح:۲۳۸۷)۔البدایۃ و النہایۃ ۱/۲۵۳۔