کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 47
تھوڑے سے لوگوں میں آپ کی بیعت ہوئی تھی۔ پھر لوگوں کا آپ پر اجتماع ہوگیا ؛اس لیے کہ لوگوں کے لیے آپ کا استحقاق ِ خلافت واضح ہوگیا تھا لہذاانہیں اب مزید کسی غور و فکر اور مشورہ کی ضرورت نہیں تھی۔ جب کہ کوئی دوسرا انسان اس مسئلہ میں آپ کی طرح نہیں تھا۔اور ابو مشعر کی روایت میں ہے : ’’ اب ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا ہم میں کوئی کہاں ہوگاجس کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دی جائیں ۔‘‘[1] اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی منزلت کا علم تھا۔ حتی کہ کفار بھی آپ کو مسلمانوں میں سب سے مقدم سمجھتے تھے۔ابوسفیان نے غزوہ ٔ احد کے دن صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں دریافت کیاتھا۔[2] علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی [1] فتح الباری ۱۲/۱۵۵۔ [2] یہ روایت صحیح البخاری کتاب المغازي ‘ باب غزوہ احد‘ ح:۴۰۴۳ میں اس طرح ہے:ابوسفیان نے جب پوچھا کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: ’’اسے جواب نہ دو، پھر اس نے پوچھا کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ؟آپ نے جواب دینے سے منع کیا۔ ابوسفیان پھر بولا:کیا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ؟ آپ نے پھر بھی جواب دینے کی اجازت نہ دی۔ ابوسفیان کہنے لگا۔ ان سب کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نہ رہا گیا؛ تو بولے اﷲ کے دشمن ! تو جھوٹ کہتا ہے یہ سب زندہ ہیں …‘‘