کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 44
پس لوگوں نے آپ کی بات کی طرف رجوع کرلیا ‘ اور آپ کی خلافت پر جمع ہوگئے۔‘‘[1] علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ یہ جملہ حضرت حباب بن منذر نے کہا تھا کہ : ’’ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر آپ میں سے ۔‘‘ اس لیے کہ عرب صرف اسی کو اپنا قائد تسلیم کرتے تھے جو ان کی قوم میں سے ہوتا۔ گویاکہ آپ تک اسلام میں نظام حکومت سے متعلق خبر نہیں پہنچی تھی کہ خلافت قریش کے ساتھ خاص ہوگی۔لیکن جب آپ تک یہ حدیث پہنچ گئی تو آپ اپنی بات کہنے سے باز آگئے ۔ آپ نے اور آپ کی قوم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی۔[2] حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ’’ اے انصار کی جماعت! بیشک اگرچہ ہم مشرکین کے ساتھ جہاد کرنے میں فضیلت رکھتے ہیں اور اس دین میں سبقت رکھتے ہیں ۔ لیکن سن لو ! اللہ کی قسم ہم نے اپنے عمل سے صرف اللہ کی رضامندی اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری چاہی تھی۔اسی لیے اپنے نفسوں کو تکلیف دی۔ پس اب یہ مناسب نہیں کہ ہم اس وجہ سے لوگوں پر احسان جتائیں ۔‘‘[3] [1] البدایۃ والنہایۃ ۸/۸۰۔ [2] فتح الباری ۱۲/۱۵۹۔ [3] الطبري ۳/۲۲۱۔