کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 37
سقیفہ کے بعض نتائج بعض مؤرخین اس مسئلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی آراء کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں : ٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک جماعت تھی‘ یا ایک دھڑا تھا۔جو آپ کے ساتھ جمع تھے۔اورحکومت تک پہنچنے کی کوشش کررہے تھے۔ اور ان کا یہ بھی خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا داماد ہونے کی بنا پر آپ اس معاملہ کے زیادہ حق دار تھے۔اور اس لیے بھی کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔لیکن جس وجہ سے آپ ایسا نہ کرسکے وہ آپ کے پاس افرادی قوت کی کمی تھی۔ اور آپ کو اتنی قوت حاصل نہیں تھی کہ آپ اپنا مطلب پورا کرسکتے۔[1] ٭ جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر انصار کا اپنا ایک مؤقف تھا۔ اس لیے کہ یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد حرکت میں آگئے تھے تاکہ قیادت میں اپنا حق حاصل کرسکیں یا پھر کم از کم مدینہ منورہ میں اپنی آزادی کو برقرار رکھ سکیں ۔ لیکن وہ یہ بات بھول گئے تھے کہ مدینہ ایک عرصہ سے ان کا مدینہ نہیں رہا تھا۔ بلکہ یہ مدینہ رسول ہوگیا تھا۔ …لیکن زیادہ دیر نہیں گزری [1] بروکلمان ؛ تاریخ الشعوب الإسلامیۃ ص ۸۳۔