کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 25
’’ اسلام پوری زندگی کا ایک منہج ہے۔اس نظریہ کے مطابق دین اسلام میں بنیادی طور پر تین پہلو پائے جاتے ہیں : ۱۔ دینی پہلو ۲۔ سیاسی پہلو ۳۔ ثقافتی پہلو یہ تینوں پہلو آپس میں ایک دوسرے سے جڑے اور متحرک و متفاعل ہیں ۔ بسا اوقات اس میں سے کوئی ایک پہلو جزوی طور پر کسی دوسرے پہلو پر غالب آجاتا ہے؛ مگر اس کاملاحظہ نہیں کیاجاسکتا۔‘‘[1] جب کہ مارسیل بوازار کہتاہے: ’’ان زائد و واجب امور میں سے ایک مغرب کی طرف ہزاربار کئے جانے والے اس اعتراض پر رد کرنا ہے کہ دین اسلام سیاسی نظام کو پروان چڑھانے سے عاجز آگیا تھا۔حالانکہ تاریخ اس بات کو سرے سے قطعی طور پر جھٹلاتی ہے۔‘‘[2] میں کہتا ہوں :جو چیز ان لوگوں کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ منتخب کرنے سے متعلق سابقہ دعووں کو رد کرتی ہے ؛ وہ یہ ہے کہ: [1] فیلیب حتی ؛ الإسلام منہج الحیاۃ ص ۹۔ [2] عماد الدین خلیل ؛ قالوا عن الإسلام ص ۶۴۔ بوازار : ایک فرانسیسی ماہر قانون مفکر ہے۔ اس کی کتاب ہے: ’’ انسانیۃ الإسلام۔‘‘