کتاب: بیعت سقیفہ بنی ساعدہ نئے مؤرخین کی تحریروں میں - صفحہ 17
اور عبد العزیز سالم بھی ہے ؛ جو کہتا ہے : ’’گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسا کرنے سے مراد یہ تھی کہ اس معاملہ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے مشورہ پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ اپنے لیے ایسی شخصیت کا انتخاب کریں جو ان کے لیے مناسب ہو‘اوروہ ان کے مابین اس قبائلی نظام کو جاری کرسکے جس سے عرب لوگ مانوس ہیں ۔‘‘[1] اور عبد الحمید بخیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے لمحات کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ‘ کہتا ہے : ’’اس خوفناک گھڑی میں انصار اسی پرانی عرب [قبائلی] عادت کی طرف لوٹ گئے۔یہ عربوں کے نفوس میں اصلی طور پر قبائلی روح موجود ہونے کی دلیل ہے۔ ‘‘[2] ایسا ہی استدلال محمد عبد الحئی شعبان نے بھی کیا ہے جس میں اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس نظریہ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین عہد جاہلیت کی طرف لوٹ گئے تھے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے: ’’ نئے قائد کے لیے دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔یہ سب کچھ ان قدیم وسلیم عربی عادات کی تقلید میں تھا۔اس کا تقاضا یہ تھا کہ آپ کے بعد نظر کو ثابت قدم رکھا جائے۔ اوریہ طریقہ ان نئے حالات کی روشنی میں عربی تقلید کے فہم کو [1] تاریخ الدولۃ العربیۃ ص ۱۳۴۔ [2] عصر الخلفاء الراشدین ۳۸؛ ۳۳۔