کتاب: بدر سے تبوک تک - صفحہ 52
رکھنے والو! اگر اللہ نے ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں انہیں عذاب دے ڈالتا، اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔‘‘ جب بھی کوئی قوم جہاد کی غرض سے نکلتی ہے اور ان کا مطمع نظر اعلاء کلمۃ اللہ ہو تو قدرت ان کی اعانت و نصرت ضرور فرماتی ہے اور انہیں بے آسراء و بے سہارا ہرگز نہیں چھوڑتی۔ قوم یہود جنہیں اپنی دولت اور دفاعی نظام پر گھمنڈ تھا۔ مدینہ کے اندر گڑھیاں بنا کر رہتے تھے۔ ان کے لئے یہ وسائل فتنہ کی صورت اختیار کر گئے، بجائے اس کے کہ وہ خداداد نعمتوں کی قدر کرتے، انہوں نے کفران نعمت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کو رسوا کرنے کے منصوبے بناتے رہتے تھے۔ ان کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ہمارے خلاف کوئی ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ آخر وہ قوم حرکت میں آتی ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت و حیات کی بیعت کی تھی، انہیں مجبور کر دیتی ہے کہ تم یہاں سے چلے جاؤ تم اس لائق نہیں کہ یہاں رہ سکو۔ تمہاری بربادی کے فیصلے ہو چکے ہیں۔ آخر وہی منکر رسالت اپنے ہی ہاتھوں سے مکانوں کو مسمار کرتے ہیں۔ کیا اللہ نے ان یہودیوں کو قیامت تک کے لئے درس عبرت نہیں بنا دیا تھا؟ آج امت مسلمہ منقبت و ذلت میں گھری ہوئی ہے۔ دنیا میں کوئی قوم بھی اس قدر مظلوم نہیں جس قدر یہ امت مرحومہ ہے۔ مسلمان پوری دنیا میں مٹ رہے ہیں قوم یہود پورے عروج پر ہے۔ آج قوموں کے مقدر کے فیصلے اس مغضوب اور ضال قوم کے ہاتھوں میں ہیں۔ اس صفحہ ہستی پر کوئی صاحب اقتدار ان کی مرضی کے خلاف دم نہیں مار سکتا۔ مسلمانو! کیا تمہیں یہودیوں کی بستیاں اجڑتی نظر آ رہی ہیں؟ کل کی بات ہے جب انہیں والی بطحاء کے سامنے قیدی مجرموں کی صورت پابہ زنجیر پیش کیا گیا۔ اور وہ بےبس کھڑے تھے انہیں اپنے جرائم کا یقین تھا۔ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم عبادہ بن صامت منصف تھے۔ عبادہ کہہ رہے تھے: