کتاب: بدر سے تبوک تک - صفحہ 253
بِالْبَيِّنَاتِ ۖ فَمَا كَانَ ا للّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿٧٠﴾)) (17) ’’(منافقو! تم ایسے ہی ہو) جیسے تم سے پہلے لوگ ، وہ تم سے زیادہ طاقتور تھے اور مال و اولاد میں بھی تم سے زیادہ تھے، انہوں نے اپنے حصے میں فائدہ اٹھایا تو تم نے بھی اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا (تھا) اور تم بےہودہ کاموں میں پڑ گئے جیسے وہ پڑے تھے ، ان کے عمل بیکار ہو گئے دنیا میں اور آخرت میں، اور وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبر نہ پہنچی جو ان سے پہلے تھے ، نوح کے لوگوں کی اور عاد و ثمود کی اور ابراہیم کے لوگوں کی اور مدین والوں کی اور ان بستیوں (والوں) کی جو الٹ دی گئیں، ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تو اللہ (کی شان کے لائق) نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ اپنی جانوں پر آپ ظلم کرتے ہیں۔‘‘ منافقین اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتے تھے، اللہ نے مومنین کے اوصاف اس آیت میں یوں بیان فرمائے: ((يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ ا للّٰهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ ا للّٰهُ إِنَّ ا للّٰهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٧١﴾)) (18) ’’نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں، وہی لوگ ہیں جن پر اللہ عنقریب رحم کرے گا، بےشک اللہ بہت غلبہ والا بڑی حکمت والا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منافقین سے بہترین سلوک تھا۔ آخر ان کی اس خبیث فطرت کی وجہ سے رب العزت نے اپنے نبی سے فرمایا: