کتاب: بدر سے تبوک تک - صفحہ 234
شاءاللہ ہم واپس چلے جائیں گے۔‘‘ اب یہ بات صحابہ کو پسند آئی اور خاموش رہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی خاموشی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے (3) الغرض چالیس دن محاصرہ کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آئے۔ (4) واپسی میں جب مسلمان ذوالحلیفہ پہنچے تو انہیں شدت کی بھوک لگی۔ مال غنیمت میں انہیں کچھ اونٹ اور کچھ بکریاں ہاتھ آئی تھیں۔ انہوں نے چند اونٹوں یا بکریوں (کو ذبح کر کے ان) کا گوشت پتیلوں میں ڈال کر پکانا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ پیچھے رہ گئے تھے، جب وہاں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پتیلیاں اوندھا دی جائیں (کیونکہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں تصرف ناجائز ہے) پتیلیاں اوندھا دی گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں اونٹ اور بکریاں تقسیم کیں۔ ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا۔ ان اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھاگا۔ کیونکہ مجاہدین کے پاس گھوڑے بہت کم تھے، لہٰذا اسے گھیر کر نہ پکڑ سکے، بھاگتے بھاگتے تھک گئے۔ اتنے میں ایک شخص نے اسے تیر مارا، تیر مارتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان جانوروں میں کبھی وحشی جانوروں کی طرح وحشت ہو جایا کرتی ہے، لہٰذا اگر ان میں سے کوئی جانور تم پر غالب آ جائے تو ایسا ہی کیا کرو۔ (5) ذوالحلیفہ سے روانہ ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ میں قیام فرمایا اور اسی مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں حاصل کیا ہوا مال تقسیم کیا۔ (مال خمس میں سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا اور کچھ کو نہیں دیا جن کو نہیں دیا وہ خفا ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کی کجی اور بے صبری کا مجھے اندیشہ ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کو اس خیر اور غنی کے حوالے کر دیتا ہوں جو خیر و غنی اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کر دی ہے۔ ان