کتاب: بدر سے تبوک تک - صفحہ 20
گھی بکتا تھا۔ کارواں آتے جاتے اس مقام پر ضرور قیام کرتے تھے۔ اس لئے بھی رونق رہتی۔ یہاں بنو حمزہ آباد تھے۔ ان ہی کی ایک شاخ بنو غفار تھی۔ بدر کی نسبت بدر بن مخلد نضر بن کنانہ کی طرف کی جاتی ہے کہ اس نے یہاں ایک کنواں کھدوایا تھا جس کا پانی صاف اور میٹھا تھا۔ اتنا شفاف کہ چاندنی راتوں میں چاند کا عکس اس میں صاف دکھائی دیتا تھا۔ کنواں چونکہ گول شکل کا تھا اس لئے بھی اس کا نام بدر پڑ گیا۔ اس بڑے کنویں کے علاوہ بھی وادی یلیل میں کچھ چشمے تھے جن کا بہاؤ مدینہ کی جانب تھا۔ یہ راستہ آج بھی بہت سرسبز ہے۔ اس میں میلوں لمبے نخلستان ہیں۔ بدر اور احمر کے درمیان گھنے جنگل بھی نظر آتے ہیں۔ (16) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد صحابہ تھے۔ ان کی تعداد اتنی تھی جتنی اصحاب طالوت کی جنہوں نے طالوت کے ہمراہ نہر کو پار کیا تھا (17) (چھوٹے بڑے سب ملا کر) اصحاب کی تعداد تین سو اُنیس تھی (18) جن میں مہاجرین ساٹھ سے کچھ زائد تھے اور انصار دو سو چالیس سے زائد تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کم عمری کی وجہ سے جنگ میں شرکت کی اجازت نہیں ملی (19) مشرکین مکہ بھی بدر کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ (20) جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ صحابہ کرام کو قریش کے چند سقے ملے۔ ان میں بنی حجاج کا ایک کالا غلام بھی تھا۔ صحابہ کرام نے اسے پکڑ لیا اور اس سے ابو سفیان کا اور قافلے والوں کا حال دریافت کیا، اس نے کہا مجھے ابو سفیان کے متعلق کوئی علم نہیں، البتہ ابوجہل، عتبہ، شیبہ، ولید اور امیہ بھی خلف یہاں موجود ہیں۔ مگر وہ ابو سفیان کے بارے میں کچھ نہ بتاتا، اس پر صحابہ کرام اسے مارتے جب وہ کہتا کہ ابو سفیان کا حال بتاتا ہوں تو پھر اسے چھوڑ دیتے۔ پھر اس سے