کتاب: بدر سے تبوک تک - صفحہ 184
کی اور فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ، (تیرے حکم سے) میں اس کے دونوں سنگستانوں کے درمیانی علاقہ کو حرام قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم نے مکہ کو قرار دے دیا تھا۔ اے اللہ! مدینہ والوں کے لئے ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما‘‘ (40) پھر آپ نے یہ کلمات پڑھے: (آئبون تائبون عابدون لربنا حامدون) ’’ہم پھر واپس آنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، (صرف اللہ کی) عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں‘‘۔ پھر یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر پڑھتے رہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ (41) مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوشخبری سنائی: (وَعَدَكُمُ ا للّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنكُمْ وَلِتَكُونَ آيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا ﴿٢٠﴾ وَأُخْرَىٰ لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ ا للّٰهُ بِهَا ۚ وَكَانَ ا للّٰهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا ﴿٢١﴾ وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ﴿٢٢﴾ سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيلًا ﴿٢٣﴾) (42) ’’اللہ نے تم سے وعدہ فرمایا۔ بہت سی غنیمتوں کا جو (آئندہ) تم حاصل کرو گے۔ تو یہ (نعمت) تمہیں جلدی عطا فرما دی اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا۔ اور تاکہ یہ (نعمت) مومنوں کے لئے نشانی ہو جائے اور (اللہ) تمہیں سیدھی راہ پر ثابت قدم رکھے۔ دوسری نعمتیں جن پر تم قادر نہ تھے۔ یقیناً اللہ نے ان کا احاطہ فرما لیا اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔ اور اگر کافر تم سے (اس وقت) قتال کرتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کوئی حمایتی نہ پاتے اور نہ کوئی مددگار۔ اللہ کا دستور ہے وہ چلا آ رہا ہے پہلے سے اور آپ اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے۔‘‘