کتاب: بدر سے تبوک تک - صفحہ 149
جنت میں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہیں جائیں گے؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں‘“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ’’پھر ہم کیوں اپنے دین کے معاملہ میں ان سے دبیں اور واپس چلے جائیں خصوصاً اس حالت میں کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں اللہ کا رسول ہوں میں اللہ کی نافرمانی نہیں کر سکتا، وہی میرا مددگار ہے وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا‘‘ حضرت عمر نے عرض کیا: ’’کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بیان نہیں کیا تھا کہ ہم کعبہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سال جائیں گے؟ حضرت عمر نے کہا: جی نہیں، یہ تو نہیں فرمایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ’’بےشک تم کعبہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے لیکن یہ ضروری نہیں کہ اسی سال‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ غم میں بھرے واپس ہوئے لیکن ان سے صبر نہ ہو سکا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے۔ ان سے کہا: ’’اے ابوبکر رضی اللہ عنہ کیا یہ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: ’”ہاں‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم حق پر اور دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’ہاں‘‘ حضرت عمر نے کہا: پھر ہم کیوں اپنے دین کے معاملے میں دبیں؟ حضرت ابوبکر نے کہا: ’’بےشک وہ اللہ کے رسول ہیں، وہ اپنے رب کی نافرمانی نہیں کر سکتے، وہی ان کا مددگار ہے وہ ہرگز ان کو ضائع نہیں کرے گا۔ لہٰذا تم مضبوطی کے ساتھ ان کے حکم کی تعمیل کرو کیونکہ اللہ کی قسم وہ حق پر ہیں‘‘ حضرت عمر نے کہا: ’’کیا انہوں نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم کعبہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟‘‘ حضرت ابوبکر نے کہا: ہاں کہا تھا۔ لیکن کیا تم سے یہ کہا تھا کہ تم اسی سال جاؤ گے؟ حضرت عمر نے کہا: نہیں یہ تو نہیں کہا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر تم