کتاب: بدر سے تبوک تک - صفحہ 131
میرے گھر والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنے عطیہ کی واپسی کے لئے بھیجا۔ یہ عطیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ایمن جنہوں نے بچپن میں آپ کی پرورش کی تھی دے رکھا تھا جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ میں اس عطیہ کی واپسی کی درخواست کروانے آیا ہوں تو وہ فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود، حاکم و کارساز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ عطیہ ہرگز تمہیں واپس نہیں کریں گے وہ تو آپ مجھے دے چکے ہیں‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باتیں سنیں تو ان کو راضی کرنے کی کوشش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تمہیں اس کے بدلہ میں اس قدر دے دوں گا‘‘ وہ کہنے لگیں واللہ میں تو نہیں دوں گی، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عطیہ سے دس گنا یا اس کے لگ بھگ دے کر حضرت ام ایمن کو راضی کر لیا (42) اور وہ عطیہ حضرت انس کے گھر والوں کو واپس کر دیا۔