کتاب: بدر سے تبوک تک - صفحہ 105
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر عزل کیوں کریں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عزل نہ کرنے میں تمہارا کوئی حرج نہیں چونکہ جو جان قیامت تک پیدا ہونے والی ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔‘‘ (3) کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ خفیہ طور پر زندہ گاڑنا ہے‘‘ گویا اس کی ممانعت فرما دی۔ (4) مہاجرین میں ایک شخص بہت ہی ظریف الطبع تھا۔ اس نے مذاق میں ایک انصاری کی پیٹھ پر تھپڑ مار دیا۔ انصاری کو غصہ آ گیا۔ اس نے انصار کو آواز دی۔ اس نے مہاجرین کو آواز دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آوازیں سن کر اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ ایام جاہلیت کی سی پکار کیسی؟ یہ کیا لوگوں کا حال ہے؟‘‘ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری کیفیت سنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس پکار کو (ہمیشہ کے لئے) ترک کر دو۔ یہ خبیث پکار ہے۔‘‘ (5) ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ ہی میں تھے کہ حضرت زید بن ارقم نے عبداللہ بن ابی منافق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ’’جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ان کو کچھ نہ کچھ دیا کرو (جب انہیں کچھ ملے گا تو وہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر) بھاگ جائیں گے۔ مہاجرین نے ہم سے فریاد رسی کی تھی (ہم نے انہیں ٹھکانہ دیا لیکن یہ ہمارے ہی سر پر چڑھ گئے) اب ہم یہ کریں گے کہ مدینہ پہنچ کر جو عزت والا ہے وہ ذلیل آدمی کو (مدینہ سے) نکال دے گا‘‘ حضرت زید بن ارقم نے اس بات کا ذکر اپنے چچا سے یا حضرت عمر سے کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کو بلایا۔ حضرت زید نے آپ صلی اللہ علیہ