کتاب: عظمت قرآن : بزبان قرآن - صفحہ 157
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ صرف جینیات(Genrtics)اور مذہب کے درمیان کوئی تصادم نہیں،بلکہ درحقیقت،مذہب بعض روایتی سائنسی نقاطِ نظر کو الہام سے تقویت پہنچا کر سائنس کی راہنمائی کرسکتا ہے۔اور یہ کہ قرآن میں ایسے بیانات موجود ہیں جو صدیوں بعد درست ثابت ہوئے اور جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ قرآن میں دی گئی معلومات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔‘‘ سترھویں صدی عیسوی کے سائنسدانوں،جنھوں نے پہلی بار انسانی نطفے کا تفصیلی خرد بینی مطالعہ کیا،وہ غلط طور پر یہ سمجھتے تھے کہ انسانی خلیۂ منویہ کے اندر ہی ایک نہایت چھوٹا انسان پنہاں ہوتا ہے جو رحمِ مادر میں نشو و نما پاکر مکمل انسانی بچہ بن جاتا ہے،جبکہ آج کی میڈیکل سائنس قطعی طور پر کہتی ہے کہ جب مرد کا نطفہ(خلیۂ منویہ)عورت کے بیضہ میں داخل ہوکر اسے بارآور کرتا ہے تو نئے انسان کا پہلا خلیہ یا جفتہ(Zyqote)وجود میں آتا ہے۔قرآن نے رحمِ مادر کے اندر جفتے کو{نُطْفَۃٍ أَمْشَاجٍ}’’مخلوط نطفہ‘‘ کہا ہے۔چنانچہ سورۃ الدہر کے بالکل آغاز ہی میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: } ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا . اِِنَّا خَلَقْنَا الْاِِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا}[الدھر:۱،۲] ’’بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابلِ ذکر نہ تھا۔ہم نے انسان کو نطفۂ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا۔‘‘ گویا جس طبی حقیقت کا اثبات میڈیکل سائنس نے تھوڑا عرصہ پہلے کیا،