کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 91
۲: اخلاص سے کہے ہوئے کلمۂ توحید کا عرش تک پہنچنا: امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں نے بیان کیا ،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ جب بھی بندہ کبائر سے اجتناب کرتے ہوئے اخلاص سے [لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ]کہتاہے ، تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ [کلمہ توحید]عرش تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘[1] ۳: ایک دفعہ [لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ…] کہنے کے فضائل: امام ابو داؤد اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابو عیاش رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس شخص نے صبح کے وقت: [لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ ، لَاشَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔][2] کہا ،تو: اس کے لیے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ثواب ہو گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اس کے دس گناہ دُور کیے جاتے ہیں، [1] جامع الترمذي ، أحادیث شتّٰی من أبواب الدعوات، باب، رقم الحدیث ۳۸۲۴ ، ۱۰؍۳۶۔ امام ترمذی اور شیخ البانی نے اسے [حسن]قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۰؍۳۶ ، و صحیح سنن الترمذي ۳؍۱۸۴)۔ [2] [ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہیں، ان کا کوئی شریک نہیں ، ان ہی کے لیے بادشاہت ہے اوران ہی کے لیے تمام تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہیں۔‘‘]