کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 52
دُخُوْلِ الْجَنَّۃِ إِلاَّ أَنْ یَمُوْتَ۔‘‘ [1] ’’ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے ، اسے جنت میں داخلے سے مرنے کے سوا کوئی اور چیز نہیں روکتی۔‘‘ ۴:سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں: ۱: رات کو پڑھنے والے کے لیے ان کا کافی ہو نا: امام بخاری نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں نے بیان کیا ،کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ مَنْ قَرَأَ بِالْآیَتَیْنِ مِنْ آخِرِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ فِيْ لَیْلَۃٍ کَفَتَاہُ۔‘‘[2] ’’جس شخص نے رات کو سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں، وہ اس کے لیے کفایت کر گئیں۔‘‘ [کفایت کرنے ]کے متعلق محدثین سے منقولہ اقوال میں سے چند ایک درجِ ذیل ہیں: ۱: قیام اللیل میں قرآن کریم کی تلاوت سے کفایت کر گئیں۔ ۲: دورانِ نماز یا نماز کے علاوہ قرأ ت قرآن کریم سے کفایت کر گئیں۔ [1] کتاب السنن الکبریٰ،کتاب عمل الیوم واللیلۃ،ثواب من قرأ آیۃ الکرسي دبر کل صلاۃ، رقم الحدیث ۹۹۲۸؍۱،۶؍۳۰؛ والترغیب والترھیب،کتاب الذکر والدعاء،الترغیب في آیات وأذکار بعد الصلوات المکتوبات،رقم الحدیث ۶،۲؍۴۵۳؛ومجمع الزوائد،کتاب الأذکار،باب ما جاء في الأذکارعقب الصلاۃ، ۱۰؍۱۰۲۔ حافظ ابن حجر نے تحریر کیا ہے:’’اسے نسائی اور ابن حبان نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے۔‘‘ (منقول از: ھامش تخریج الأحادیث والآثار الواقعۃ في تفسیر الکشاف للزمخشري ۱؍۱۶۰۔۱۶۱)؛ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۲؍۶۹۷۔۶۹۸)۔ [2] صحیح البخاري،کتاب فضائل القرآن،باب فضل سورۃ البقرۃ،رقم الحدیث ۵۰۰۹، ۹؍۵۵۔