کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 45
چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا عرض کیا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہیں کیسے معلوم ہوا، کہ اس [یعنی سورۃ الفاتحہ] کے ساتھ دم کیا جاتا ہے؟‘‘ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم نے ٹھیک کیا ، تقسیم کر لو اور میرا بھی اپنے ساتھ حصہ رکھنا۔‘‘ [یہ فرما کر ]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے۔‘‘[1] ب: مجنون کا صحت یاب ہونا: امام ابوداؤد نے خارجہ بن صلت تمیمی سے روایت نقل کی ہے ، اور انہوں نے اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے واپسی پر ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا، جن کا ایک دیوانہ شخص بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے گھر والوں نے ان سے کہا:’’ ہمیں بتلایا گیا ہے ،کہ آپ کے صاحب[یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ] خیر کے ساتھ آئے ہیں، تو کیا آپ لوگوں کے پاس اس کے علاج کے لیے کوئی چیز ہے؟‘‘ میں نے [سورۃ الفاتحہ] پڑھ کر اسے دم کیا [2]، تو وہ صحت یاب ہو گیا اور انہوں نے مجھے سو بکری دی۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ کی خدمت میں صورتِ حال عرض کی ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ’’کیا صرف یہی؟‘‘ (یعنی
[1] صحیح البخاري،کتاب الإجارۃ،باب ما یعطیٰ في الرقیۃ علی أحیاء العرب بفاتحۃ الکتاب، رقم الحدیث ۲۲۷۶،۴؍۴۵۳۔ [2] ایک اور روایت میں ہے: ’’ میں نے تین دن تک صبح و شام اس پر سورۃ الفاتحہ پڑھی۔‘‘ (سنن أبي داود ، کتاب الطب، باب کیف الرقی؟ جزء من رقم الحدیث ۳۸۹۰، ۱۰؍۲۷۷)۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۲؍۷۳۸)۔