کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 44
چنانچہ وہ ان کے پاس آئے اور کہا:’’ اے لوگو! ہمارا سردار ڈسا گیا ہے ، اور ہم نے اس [کے علاج] کی خاطر ہر ممکن کوشش کی ہے ، لیکن کسی چیز سے بھی اسے کچھ فائدہ نہیں ہوا ، تو کیا تم میں کسی کے پاس [اس کے علاج کے لیے ] کوئی چیز ہے؟‘‘ ان میں سے ایک [صحابی] نے کہا:’’ ہاں، اللہ کی قسم! میں اسے دم کروں گا ، لیکن ہم نے تو آپ سے مہمانی طلب کی تھی ، لیکن آپ نے ہماری مہمانداری نہ کی ، سو اب میں اُجرت کے بغیر دم نہیں کروں گا۔‘‘ بکریوں کے ایک گلے پر ان کا معاملہ طے ہو گیا۔ وہ صحابی وہاں تشریف لے گئے اور {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے گئے۔[1] ایسامعلوم ہوا، گویا کہ وہ [سردار] رسی سے کھول دیا گیا ، وہ اُٹھ کر چلنے لگا ، تکلیف اور درد کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ انہوں [ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ] نے بیان کیا :’’ انہوں نے طے شدہ اُجرت صحابہ رضی اللہ عنہم کو دے دی۔ بعض صحابہ نے کہا: ’’اسے تقسیم کیجئے۔‘‘ دم کرنے والے صحابی نے کہا: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے کچھ نہ کرو۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو صورتِ حال عرض کریں گے، پھر دیکھیں گے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں۔‘‘ [1] جامع الترمذي میں ہے :’’میں نے اس پر سات مرتبہ سورۃ الحمد پڑھی۔‘‘ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي،أبواب الطب ، باب ما جاء في أخذ الأجر علی التعویذ،رقم الحدیث ۲۱۴۲، ۶؍۱۸۹۔۱۹۰)۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي ۲؍۲۰۶)۔