کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 42
’’ یَجِيْ ئُ صَاحِبُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَیَقُوْلُ :’’یَا رَبِّ! حَلِّہِ۔‘‘ فَیُلْبَسُ تَاجَ الْکَرَامۃِ۔ثُمَّ یَقُوْلُ:’’ یَا رَبِّ! زِدْہُ۔‘‘ فَیُلْبَسُ حُلَّۃَ الْکَرَامَۃِ۔ ثُمَّ یَقُوْلُ:’’ یَا رَبِّ اِرْضَ عَنْہُ۔‘‘ فَیُقَالُ:’’ اِقْرَأْ ، وَارْقَأْ۔‘‘ وَیُزَادُ بِکُلِّ آیَۃٍ حَسَنَۃٌ۔‘‘[1] ’’قرآن والا قیامت کے دن آئے گا ، تو وہ[قرآن کریم] کہے گا: ’’اے رب! اسے لباسِ زینت عطا فرما ئیے۔‘‘ تو اسے تاجِ عزت پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا : ’’ اے رب! اسے مزید عطا فرمائیے۔‘‘ تو اسے پوشاکِ عزت پہنائی جائے گی۔ پھر وہ کہے گا:’’اے رب! اس سے راضی ہو جائیے۔‘‘ اس سے کہا جائے گا :’ ’ پڑھو، اور اوپر چڑھتے جاؤ۔‘‘ اور ہر آیت کے ساتھ نیکی کو زیادہ کیا جائے گا۔‘‘ ۱۲: روزِ قیامت قاری کا عظیم الشان مقام: امام ابو داؤداور امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ:’’ اِقْرَأ ، وَارْتَقِ ، وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِيْ [1] جامع الترمذي، أبواب فضائل القرآن عن رسول اللہ صلي الله عليه وسلم ، رقم الحدیث ۳۰۷۶، ۸؍۱۸۳۔ امام ترمذی نے اسے [حسن صحیح] اور شیخ البانی نے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۸/۱۸۳؛ وصحیح سنن الترمذي ۳؍۱۰)۔