کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 41
’’وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِيْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ، یَتْلُوْنَ آیَاتِ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَ بَیْنَھُمْ إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ، وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہُ۔‘‘[1] ’’ لوگوں کا کوئی گروہ اللہ تعالیٰ کے گھروں میںسے کسی گھر میں آیاتِ الٰہیہ [قرآن کریم] کی تلاوت اور اس کو سمجھنے سمجھانے کے لیے جمع نہیں ہوتا ، مگر ان پر اطمینان نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، ان کے گرد فرشتے اپنے پَروں کے ساتھ قریب ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود[فرشتوں] کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتے ہیں۔‘‘ ۱۱: قرآن کریم کا اپنے ساتھیوں کے لیے شفاعت کرنا: ا: امام مسلم نے حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں نے بیان کیا ،کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ اِقْرَئُ وْا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّہُ یَاْتِيْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیْعًا لِأَصْحَابِہِ۔‘‘[2] ’’قرآن پڑھو، کیونکہ بلا شبہ وہ اپنے ساتھیوں کے لیے شفاعت کرنے والے کی حیثیت سے آئے گا۔‘‘ ب: امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے ،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح مسلم،کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر ، جزء من رقم الحدیث ۳۸۔ (۲۶۹۹)،۴؍۲۰۷۴۔ [2] المرجع السابق،باب فضل قراء ۃ القرآن وسورۃ البقرۃ،رقم الحدیث ۲۵۲۔(۸۰۴) ،۱؍۵۵۳۔