کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 35
۲۲۔ ذکرِ الٰہی ہی سے بندے کا شیطان سے محفوظ ہونا: امام احمد اور امام ترمذی نے حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، کہ:’’ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتو ں کا حکم دیا، کہ وہ ان پر عمل کریں اور بنو اسرائیل کو ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔ انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں اکٹھا کیا ، تو مسجد بھر گئی اور وہ بالا خانوں میں بیٹھے۔ انہوں[یحییٰ علیہ السلام ] نے کہا:’’ بلاشبہ مجھے اللہ تعالیٰ نے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے ،کہ میں ان پر عمل کروں ، اور تمہیں ان پر عمل کرنے کا حکم دوں۔‘‘ ان میں سے پہلی بات یہ ہے ،کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے نماز کا حکم دیا ہے او ر تمہیں روزے[رکھنے]کا حکم دیا ہے اور تمہیں صدقہ [کرنے] کا حکم دیا ہے اور تمہیں حکم دیا ہے ،کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو ۔ بلاشک و شبہ اس کی مثال ایک ایسے شخص کی طرح ہے ،کہ دشمن تیزی سے اس کا تعاقب کریں اور وہ ایک محفوظ قلعے میں پہنچ کر خود کو ان سے بچا لے ، اسی طرح بندے کو ذکرِ الٰہی کے سوا اور کوئی چیز شیطان سے محفوظ نہیں کر سکتی۔‘‘[1] [1] المسند۴؍۱۳۰(ط:المکتب الإسلامي) ؛ وجامع الترمذي ،أبواب الأمثال،باب ما جاء في مثل الصلاۃ والصیام والصدقۃ،جزء من رقم الحدیث ۳۰۲۳،۸؍۱۳۰۔۱۳۱۔ الفاظِ حدیث جامع ترمذی کے ہیں۔ امام ابن قیم اور شیخ البانی نے اسے [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: إعلام الموقعین۱؍۲۳۱؛وصحیح سنن الترمذي۲؍۳۷۹)۔