کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 129
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یقینا اسے معاف کیا گیا۔‘‘ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ) تین دفعہ (فرمایا)۔ ۵: دس مرتبہ تکبیر و تسبیح [1] کے بعد استغفار کی فضیلت: امام طبرانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابو رافع کے بیٹوں کی والدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ بے شک انہوں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔! (پڑھنے کے لیے)الفاظ بتلایئے اور مجھ پر زیادہ ( الفاظ کا بوجھ)نہ ڈالیئے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم کہو: [اَللّٰہُ أَکْبَرُ] [2] دس مرتبہ، اللہ تعالیٰ (جواب میں) فرماتے ہیں: ’’ یہ میرے لیے ہے۔‘‘ تم کہو: [سُبْحَانَ اللّٰہِ] [3] دس بار۔ وہ ( اللہ تعالیٰ جواب میں) فرماتے ہیں: ’’ یہ میرے لیے ہے۔‘‘ تم کہو: ’’ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِيْ۔‘‘ [4] وہ فرماتے ہیں: ’’بے شک میں نے (تجھے معاف) کردیا۔‘‘ [1] یعنی دس مرتبہ [اَللّٰہُ أَکْبَرُ] اور دس دفعہ [سُبْحَانَ اللّٰہِ] کہنے کے بعد استغفار کرنا۔ [2] یعنی اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں۔ [3] یعنی اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہیں۔ [4] ترجمہ: ’’اے اللہ! میری مغفرت فرما دیجئے۔‘‘