کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 127
عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَااسْتَطَعْتُ ، أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، أَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَيَّ، وَأَبُوْئُ لَکَ بِذَنْبِيْ ، اغْفِرْلِيْ فَإِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ] [1] جس شخص نے ان[الفاظ] کو دن میں ان پر یقین رکھتے ہوئے کہا اور شام ہونے سے پیشتر فوت ہو گیا ، تو وہ اہلِ جنت میں سے ہے اور جس نے انہیں رات کو یقین کے ساتھ پڑھا اور وہ صبح ہونے سے پہلے انتقال کر گیا ، تو وہ [بھی] جنت والوں میں سے ہے۔‘‘[2] ۳: [لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَلِيُّ…] کی فضیلت: حضراتِ ائمہ، احمد، نسائی اور ابن حبان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ’’اے علی۔ رضی اللہ عنہ ۔! کیا میں تجھے (ایسے) کلمات نہ سکھلاؤں، (کہ) جب تم انہیں کہو، تو تمہاری مغفرت کردی جائے، اگرچہ یقینا تمہاری (پہلے ہی سے) بخشش ہوچکی ہے: [لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَلِيُّ الْعَظِیْمُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، وَالْحَمْدُ [1] [ترجمہ: ’’اے اللہ! آپ میرے رب ہیں۔ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ نے ہی مجھے پیدا فرمایا ہے اور میں آپ کا بندہ ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق آپ سے کیے ہوئے عہد اور وعدہ پر [قائم] ہوں۔ میں نے جو کیا ہے[یعنی آپ کی نافرمانی]، اس کے شر سے آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ آپ کے مجھ پر جو احسانات ہیں ، میں آپ کے روبرو ان کا اعتراف کرتا ہوں اور آپ کے حضور اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں ، پس آپ مجھے معاف فرما دیجیے ،کیونکہ بلاشبہ آپ کے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔‘‘] [2] صحیح البخاري،کتاب الدعوات،باب أفضل الاستغفار،رقم الحدیث ۶۳۰۶، ۱۱؍۹۷۔ ۹۸۔