کتاب: اذکار نافعہ - صفحہ 102
کروانے والا کوئی ہو ، یا وہ ہمیشہ رہے؟‘‘[1] ز: تسبیح ، تحمید اور تکبیر کے فضائل: ان کلمات کے سو سو مرتبہ کہنے کے فضائل: امام طبرانی نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’کسی شخص کا سو مرتبہ: [سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ] کہنا سو اونٹ کی مانند ہے اور سو مرتبہ : [اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ] کہنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں سو زین پوش لگام چڑھائے ہوئے گھوڑے [دینے] کی طرح ہے ، اور سو مرتبہ : [اَللّٰہُ أَکْبَرُ] کہنا مکہ میں[اللہ کی راہ میں] ذبح کیے گئے سو اونٹوں کے برابر ہے۔‘‘[2] ح: تسبیح ، تحمید ، تہلیل اور تکبیر کے فضائل: ۱:اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین کلام: امام مسلم نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں [1] سنن ابن ماجہ ، أبواب الأدب ، باب فضل التسبیح ، رقم الحدیث ۳۸۵۴، ۲؍۳۳۷۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابن ماجہ ۲؍۳۲۰؛ وصحیح الترغیب والترھیب ۲؍۳۲۰)۔ [2] منقول از: مجمع الزوائد ، کتاب الأذکار،باب ما جاء في الباقیات الصالحات ونحوھا ، ۱۰؍۹۱۔۹۲۔ حافظ ہیثمی نے اسے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۰؍۹۲)۔