کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 96
یعنی:مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:برہنہ ہوکر مت چلاکرو۔ وعن ابن عمررضی اللّٰه عنھما أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:إیاکم والتعری، فإن معکم من لایفارقکم إلا عندالغائط، وحین یفضی الرجل إلی أھلہ، فاستحیوھم واکرموھم. (اس حدیث کو امام سیوطی نے حسن کہاہے)[1] عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمااسے مروی ہے ،بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برہنہ ہونے سے بچو،تمہارے ساتھ ایک دوسری مخلوق بھی ہوتی ہے،جو کبھی تم سے جدا نہیں ہوتی سوائے اس وقت جب تم بیت الخلاء جاؤ،یاپھر اس وقت جب آدمی اپنی زوجہ سے ملتاہے(فرشتے مراد ہیں)پس ان کی شرم رکھواور ان کا [1] ضعیف:کیونکہ اس میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہے،ترمذی:(۲۸۰۰)امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہےہم اسے اس سند کے علاوہ نہیں پہچانتے۔مبارک پوری فرماتےہیں اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ہے جوکہ آخر عمر میں مختلط ہوگیاتھااور اس کی حدیث کی تمیز نہیں ہوسکی۔(تحفۃ الاحوذی:۸؍۴۸)بغوی فرماتے ہیں:اس کی سند غریب ہے(شرح السنہ ۹؍۲۵)البتہ سیوطی نے جامع صغیر میں اس حدیث پر حسن کی علامت لگائی ہے(الفیض:۲۹۱۱)مناوی نے الفیض میں ذکر کیا ہے کہ ترمذی نے اسے حسن غریب کہا ہے۔ابن القطان کہتے ہیں کہ ترمذی نے اس کے صحیح نہ ہونے کی وجہ بیان نہیں کی، لگتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں لیث بن ابی سلیم ہے،کیونکہ ترمذی بذات خود ہمیشہ اس راوی کو اور اس کی حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔