کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 92
اپنی بیوی کودے دوکہ وہ اسے اوڑھنی بناکر اپنے بدن کو ڈھانپ لے،جب دحیہ کلبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے جانے لگے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی بیوی کوحکم دینا کہ وہ اس چادر کے نیچے کوئی دوسرا کپڑا بھی لگائے،تاکہ خالی چادر اس کے جسم کو نمایاں نہ کرسکے۔[1] عبداللہ بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی ایک مرسل روایت ہے،امیرالمؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قبطی چادیں پہنائیں،پھر فرمایا:یہ چادریں تمہاری عورتیں نہ پہنیں، ایک شخص نے کہا:امیر المؤمنین !میں نے وہ چادر اپنی بیوی کو پہنائی ہے،وہ میرے سامنے گھر میں آتی جاتی رہی،اس چادر میں سے اس کے اعضاء دکھائی نہیں دیتے تھے،توآپ نے فرمایا: دکھائی تونہیں دیتے،مگر جسم کے نشیب وفراز ضرور جھلکتے ہیں۔ وجہِ استدلال یہ تمام احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عورت کیلئے ضروری ہے کہ
[1] ضعیف:ابوداؤد(۴۱۱۶) حاکم(۴؍۱۸۷)حاکم نے اس کی سند کوصحیح قرار دیا ہے،البتہ امام ذہبی نے اس پر تعاقب کرتے ہوئے کہا ہےکہ سند میں انقطاع ہے۔شوکانی فرماتے ہیں:ـاس کی سند میں ابن لہیعۃ ہے اور اس کی حدیث قابل حجت نہیںالبتہ ابن لہیعۃ کی اس روایت کی متابعت ابوالعباس یحیی بن ایوب المصری نے کی ہے لیکن اس میں بھی کلام ہے۔امام مسلم نے اس سے حجت پکڑی ہے جبکہ امام بخاری اس کو استشہاداً لائے ہیں۔(نیل الاوطار۲؍۱۲۹-۱۳۰(