کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 90
اپنے جسم کی نمائش کرے،بندہ کا یہ متکبرانہ طور، اللہ تعالیٰ کو قطعی ناپسند ہے۔ بہت سی ضعیف الایمان اورناقص العقل عورتیں چھوٹا اور باریک اور تنگ لباس پہننے اور جسم کی نمائش کرنے میں فخر محسوس کرتی ہیں،یہ کبر نہیں تواورکیاہے؟ فطرتیں کس قدر الٹی ہوچکی ہیں،اللہ تعالیٰ کی پناہ۔ آٹھویں دلیل عن أسامۃ بن زید رضی اللّٰه عنھما قال :کسانی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قبطیۃ کثیفۃ، کانت مما أہداھا دحیۃ الکلبی، فکسوتھا إمرأتی ، فقال لی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ما لک لم تلبس القبطیۃ؟ قلت:یارسول اللّٰه کسوتھا إمرأتی،فقال لی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم مرھا فلتجعل تحتھا غلالۃ، إنی أخاف أن تصف حجم عظامھا.[1] [1] حسن:احمد(الفتح الربانی:۱۷؍۳۰۰-۳۰۱) ابن ابی شیبہ ،بزاز،ابن سعد ،طبرانی،بیہقی(نیل الاوطار:۲؍۵۴۸)المختارہ(۱۳۶۵)یاد رہے صاحب مختارہ نے اپنی کتاب میں صحتِ حدیث کاالتزام کیا ہے۔ہیثمی فرماتے ہیں اس حدیث میں عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ،اس کی حدیث حسن ہے البتہ اس راوی میں کچھ ضعف ہے،جبکہ بقیہ تمام راوی ثقہ ہیں(الفتح الربانی:۱۷؍۳۰۱)ابن کثیر نے عبداللہ بن محمد بن عقیل کی سند سے ایک حدیث کو جوکہ سورۃ الفاتحہ کی فضیلت میں وارد ہے، جید قرار دیا ہے۔اور کہا ہے ابن عقیل سے کبارائمہ نے حجت پکڑی ہے(التفسیرلابن کثیر۱؍۱۱)ابن الملقن کہتے ہیں امام ترمذی نے اس کی حدیث کو کبھی حسن اور کبھی صحیح قرار دیاہے (البدرالمنیر۲؍۲۴۹(